مولاﷺ کا نہیں، مولوی کا دفاع

Maslake Ala-Hazrat Zindabad!

مولاﷺ کا نہیں، مولوی کا دفاع!

از: وسیم احمد رضوی
(جیلانی مشن و امام ماتریدی ایجوکیشنل ٹرسٹ، مالیگاؤں)

9؍ جولائی بروز بدھ مالیگاؤں کے اخبار ’’ڈسپلن‘‘ میں ایک قاسمی مولوی شیخ الحدیث صاحب کا مضمون بعنوان ’’عاشوراء کے دن کی فضیلت‘‘ شائع ہوا۔ قاسمی مولوی صاحب اکثر دینی مواقع پر مضامین لکھتے رہتے ہیں لیکن محرم الحرام، عیدوں کی عید یعنی عید میلاد النبی ﷺ، شبِ معراج، شبِ برأت اور شبِ قدر جیسے مقدس مواقع پر ان کی تحریریں اہل سنت و جماعت کے عقائد و نظریات اور معمولات کے خلاف زہر اگلتی رہتی ہیں۔ بات جب تک برداشت کی جاتی رہے گی موصوف کا بے لگام راہوارِ فکر اُمت کے شیرازہ کو نقصان پہنچاتا رہے گا۔ کبھی محافلِ میلاد پر طعنہ کشی، کبھی شبِ معراج و شبِ برأت اور شبِ قدر پر عبادت کرنے والوں کو گناہ گار لکھنا ان کی عادت رہی ہے البتہ اس مرتبہ قاسمی مولوی صاحب نے فتنہ پروری کی تمام حدوں کو پار کرتے ہوئے اپنے مضمون میں امام المعصومین شفیع المُذنبین ﷺ کی طرف گناہ کی نسبت کردی۔ العیاذ باللہ!

قاسمی مولوی صاحب کی تحریر کے رد میں ایک گم نام تحریر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس کے فورا بعد دیوبندی جماعت کے مفرور مناظر صاحب میدان میں کود پڑے اور ایک لمبی چوڑی متضاد تحریر سوشل میڈیا کی نذر کردی۔ مفرور مناظر کی تحریر کیا ہے، تضاد بیانی اور مُلاّ پرستی کی بدترین مثال ہے، اہل سنت پر اتہام و افترا کی ایک جانب دار تحریر ہے۔ جو الزامات اہل سنت پر مفرور مناظر نے لگائے ہیں، موصوف کی تحریر خود ان کی زد میں آتی ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ان کے یہاں شیخ الحدیث، قاضی شریعت اور صدرالمدرسین کی صلاحیت کا معیار یہی ہے کہ نفسِ مسئلہ کو سمجھے بغیر اپنے مولوی کی حمایت میں میدان میں اُترٓ جاتے ہیں اور متضاد تحریروں سے اپنی جماعت کی رسوائی کا باعث بنتے ہیں۔

قاسمی مولوی صاحب نے لکھا ہے: ’’(یوم عاشورا) وہ دن ہے جس میں حق تعالیٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرمائے۔‘‘ معاذاللہ
(نوٹ: اصل مضمون میں اسم محمد کے ساتھ درود پاک نہیں لکھا ہے بلکہ صرف ص پر اکتفا کیا گیا ہے)

پہلی بات: قاسمی مولوی صاحب یا ان کے وکیلِ صفائی بن کر نمودار ہوئے مفرور مناظر صاحب بتائیں کہ یہ جملہ کس حدیثِ صحیح میں روایت ہوا ہے کہ اس دن (یعنی یوم عاشورا کو) حضور ﷺ کے ’’گناہ‘‘ معاف ہوئے؟؟؟

دوسری بات: قاسمی مولوی صاحب نے لفظ ’’گناہ‘‘ کا استعمال کیا ہے، نہ کہ ’’ذنب‘‘ کا اور یہی وہ بات ہے جس پر ہر باغیرت مسلمان کو اعتراض ہے۔ رہی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے فارسی ترجمہ اور شاہ رفیع الدین اور شاہ عبدالقادر دہلوی قدس سرہم کے اردو لفظی ترجمہ’’گناہ‘‘ کرنے کی بات تو آگے آپ ہی کی جماعت کے مولوی صاحب کا حوالہ ملاحظہ فرمائیں جو انہوں نے اسی ضمن میں ابوالاعلیٰ مودودی کا تعاقب کرتے ہوئے جواب الجواب کے طور پر لکھا ہے۔ دیوبندی جماعت کے مولانا قاضی مظہر حسین چکوالی (خلیفۂ مجاز حسین احمد مدنی دیوبندی) اپنی کتاب ’’علمی محاسبہ‘‘ (مطبوعہ چکوال پاکستان) میں لکھتے ہیں :

“یہاں شاہ عبدالقادر صاحب مفسر دہلوی قدس سرہ نے ’’ذنب‘‘ کا ترجمہ جو گناہ لکھا ہے تو وہ مجازاً اور صورتاً نہ کہ حقیقتاً کیونکہ محکم آیات سے امام المعصومین صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلقاً معصوم ہونا ثابت ہے اور اُس دور میں چونکہ اہل سنت والجماعت کے عقائد سے تعلیم یافتہ لوگ تھے اور علمی طور پر ایسے مسائل حل کیے جاتے تھے، اس لیے ذنب کا ترجمہ گناہ لکھنے سے غلط فہمی کا موقع کم ملتا تھا لیکن موجودہ دور میں چونکہ اہل سنت کے بنیادی عقائد کی تعلیم کم ہے اور بجائے حق پسندی کے حجت بازی کا زور ہے اس لیے ’ذنب‘ کا ترجمہ ایسے کرنا چاہیے جو اس کی حقیقی مراد ہے چنانچہ حکیم الامت حضرت تھانوی نے ذنب کا ترجمہ خطا لکھا ہے۔”
(علمی محاسبہ، صفحہ ۲۹۸ مطبوعہ چکوال)

قاضی مظہر حسین چکوالی نے ’’علمی محاسبہ ‘‘ نامی کتاب مولانا مودودی کے دفاع میں لکھی گئی کتاب ’’علمی جائزہ‘‘ کے رد میں لکھی ہے اور لطف کی بات تو یہ کہ مودودی مصنف نے لفظ ’’ذنب‘‘ کی تاویل میں انہیں متقدمین مفسرین اور دہلوی برادران کے حوالے دیے ہیں جن کے حوالے مفرور مناظر صاحب نے دیے ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ قاسمی مولوی سے مواخذہ براہِ راست لفظ “گناہ” کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کرنے پر کیا جارہا ہے نا کہ کسی ترجمہ اور تفسیر کے ضمن میں۔

تیسری بات: مفرور مناظر نے مُلّا پرستی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے مولوی کے دفاع میں جو کچھ لکھا ہے وہ صرف قرآنی آیت یا احادیث کے ترجمہ کی تاویل کے ضمن میں ہے۔ یعنی تمام مفسرین نے قرآنِ پاک میں ذکرلفظِ ’’ذنب‘‘ کی تاویل کرتے ہوئے اس کے مختلف معنی بیان کیے ہیں جو لفظ ’’گناہ‘‘ سے بہت ہلکے ہیں اور معصیت کو لازم نہیں آتے۔ اس کے علاوہ مفرور مناظر نے ایک بھی حوالہ اس بات کی تائید میں درج نہیں کیا کہ تلاوت و قرأت کے علاوہ انبیائے کرام بالخصوص سید الانبیاء ﷺ کی طرف گناہ کا انتساب کرکے خلافِ اولیٰ مراد لیا جائے بلکہ خود مفرور مناظر صاحب لکھتے ہیں: ’’علمائے دیوبند جب بھی ترجمۂ قرآنِ مجید میں یا حدیث شریف میں یا جہاں کہیں مضامین میں انبیاء کے لئے ذنب کا لفظ استعمال کرتے ہیں، اسی معنی میں کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا سراج صاحب کے مضمون میں کوئی قباحت ہرگز نہیں ہے، اگر ایسا ہوتا تو ہم لوگ بلا لحاظ خود تردید کردیتے۔‘‘

واہ۔۔۔۔!!! ؎

اس سادگی پہ کون نہ مرجائے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

ہمارے مولا ﷺ کو خاطی اور خلافِ اولیٰ پر ثابت کرنے کے لیے مفسرین کے حوالے دے رہے ہیں جو صرف قرآنی آیت کے ضمن میں ہیں اور جب اپنے مولوی کے دفاع کی بات آئی تو قرآن مجید اور حدیث شریف کے ترجمہ سے آگے بڑھ کر ’’جہاں کہیں مضامین میں‘‘ کا اضافہ اپنی طرف سے کرکے مفسرین کے منہج سے اپنی الگ راہ نکال کر اپنے مولوی کے لیے معصوم عن الخطا ہونے کا جواز پیش کررہے ہیں۔

ادب و عشق کی بولی

اب دیکھیں امام اہلِ سنت، مجدد اسلام، امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اس ضمن میں اکابرین اسلام کے حوالے سے اہلِ اسلام کا مسلکِ ادب پیش کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

“ہم نے سلسلۂ کلام میں اوپر ذکر کیا کہ غیرِ تلاوت میں اپنی طرف سے سیدنا آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف نافرمانی وگناہ کی نسبت حرام ہے۔ ائمۂ دین نے اس کی تصریح فرمائی بلکہ ایك جماعتِ علمائے کرام نے اسے کفر بتایا۔ مولیٰ کو شایان ہے کہ اپنے محبوب بندوں کو جس عبارت سے تعبیر فرمائے فرمائے، دوسرا کہے تو اس کی زبان گُدّی کے پیچھے سے کھینچی جائے۔ لله المثل الا علیٰ، بلا تشبیہ یوں خیال کرو کہ زید نے اپنے بیٹے عمرو کو اس کی کسی لغزش یا بھول پر متنبہ کرنے، ادب دینے، جزم وعزم واحتیاطِ اتم سکھانے کیلئے مثلًا بیہودہ نالائق احمق وغیرہا الفاظ سے تعبیر کیا، باپ کو اس کا اختیار تھا۔ اب کیا عمرو کا بیٹا بکر یا غلام خالد انہیں الفاظ کو سند بنا کر اپنے باپ اور آقا عمرو کو یہ الفاظ کہہ سکتا ہے؟ حاشا اگر کہے گا، سخت گستاخ ومردود و ناسزا و مستحق عذاب وتعزیر و سزا ہوگا۔ جب یہاں یہ حالت ہے تو الله عزوجل کی ریس کرکے انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی شان میں ایسے لفظ کا بکنے والا کیونکر سخت شدید ومدید عذابِ جہنم وغضب الٰہی کا مستحق نہ ہوگا۔ والعیاذ بالله تعالیٰ!

فائدہ ضروریہ : تلاوتِ قرآن یا قراءت حدیث کے سوا اپنی طرف سے آدم علیہ الصلوۃ والسلام خواہ کسی نبی کو معصیت کی طرف منسوب کرنا سخت حرام ہے۔”
(فتاویٰ رضویہ جلد 1، حصہ دوم، صفحہ 1120)

امام ابو عبدﷲ قرطبی (متوفی 671ھ) تفسیر میں زیرِ قولہ تعالیٰ وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ. (سورۃ طہ، آیت121) ’’یعنی (اور آدم و حوا) اپنے جسم پر جنت کے پتّے چپکانے لگے۔‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

قال القاضی ابوبکر ابن العربی رضی ﷲ تعالٰی عنہ لایجوز لاحدمنا الیوم ان یخبر بذلک عن اٰدم علیہ الصلاۃ والسلام الا اذا ذکرناہ فی اثناء قولہ تعالٰی عنہ اوقول نبیہ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فاما ان نبتدئ ذلک من انفسنا فلیس بجائز لنا فی اٰبائھا الادنین الیناالمماثلین لنا فکیف بابین الاقدم الاعظم الاکبر النبی المقدم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم وعلٰی جمیع الانبیاء والمرسلین۔

قاضی ابوبکر ابن العربی رضی ﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا: ہم میں سے کسی کو اجازت نہیں کہ آج وہ حضرت آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بارے میں ایسی بات کی اطلاع دے البتہ اس صورت میں جب وہ ﷲ تعالٰی کا یہ فرمان پڑھ رہا ہو یا نبی اکرم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی حدیث مبارک۔ ہم اپنی طرف سے ایسے واقعات کو بیان کرنا شروع کردیں تو یہ ہم اپنے قریب اپنی مثل پہلے آباء کے بارے میں نہیں کہہ سکتے تو اس ہستی کے بارے میں یہ کیسے جائز ہوگا جو ہمارے باپ سب سے اقدم، اعظم، اکبر اور مقدم نبی ہیں۔ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم وعلٰی جمیع الانبیاء والمرسلین

(الجامع للاحکام القرآن، المدخل لابن الحاج ،فصل فی مولدالنبی ،مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت ۳/۱۶)

ہمارے علماء رحمہم ﷲ تعالٰی نے فرمایا: “ہر وہ شخص جو تلاوت قرآن وحدیث رسول پڑھنے کے علاوہ کہے کہ فلاں نبی نے نافرمانی کی یا شریعت کی مخالفت کی وہ کافر ہوجائے گا، ہم اس سے ﷲ کی پناہ چاہتے ہیں۔‘‘
(المدخل لابن الحاج، فصل فی مولد النبی، مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت ۲/ ۱۵)

امام ابو عبداللہ محمد بن عبدری ابن الحاج مدخل میں فرماتے ہیں:

قد قال علما ؤ نا رحمہم اللّٰہ تعالٰی ان من قال عن نبی من الانبیاء علیھم الصّلاۃ والسلام فی غیر التلاوۃ والحدیث انہ عصٰی اوخالف فقد کفر نعوذ باللّٰہ من ذلک۔

“ہمارے علماء رحمہم اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ جوشخص انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام میں سے کسی نبی کے بھی بارے میں غیر تلاوت و حدیث میں یہ کہے کہ انہوں نے نافرمانی یا خلاف ورزی کی تو وہ کافر ہے، اس سے ہم خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔”
(مدخل لابن الحاج ، فصل فی مولد النبی صلی اللہ علیہ وسلم،بیروت۲ /۱۵)

ایسے امور میں سخت احتیاط فرض ہے۔ اللہ تعالی اپنے محبوبوں کا حسنِ ادب عطا فرمائے۔ آمین و صلی اللّٰہ تعالی علی سیدنا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین وبارک وسلم واللہ سبحنہ وتعالٰی اعلم‘‘
(فتاویٰ رضویہ اختتام رسالہ ارتفاع الحجب عن وجوہ قراءۃ الجنب، جلد ۱ حصہ دوم صفحہ 1121)

علامہ شہاب الدین خفاجی (متوفی 1069ھ) نسیم الریاض شرح شفائے قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:
الدعا بھا (ای بالمغفرۃ) لہ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم من امتہ لاینبغی لایھامہ القصور من المدعولہ کالدعاء لہ بالرحمۃ واما قول ﷲ تعالٰی لیغفر لک ﷲ ماتقدم من ذنبک وما تأخر و دعاؤہ لنفسہ بالمغفرۃ فلا یقاس علیہ۔

“امت کی طرف سے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے دعا (برائے مغفرت) جائز نہیں کیونکہ اس میں آپ سے کوتاہی کا وہم ہوتا ہے جیسے کہ آپ کے لیے رحمت کی دعا کرنا بھی مناسب نہیں، رہا معاملہ ﷲ تعالٰی کے اس ارشاد گرامی کا کہ ”ﷲ تعالٰی نے معاف فرما دیے آپ کے معاملات سابقہ اور آنے والے” اور آپ کا اپنے لیے مغفرت کی دعا کرنا تو اس پر دیگر کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔”
( نسیم الریاض شرح الشفاء، فصل فی کیفیۃ الصلٰوۃ علیہ ، مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳/۴۸۵)

حضرت شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہٗ مدارج النبوۃ شریف میں فرماتے ہیں:
بدانکہ ایں جا ادبے وقاعدہ ایں ست کہ بعضے از صفیا و از اہل تحقیق ذکر کردہ اند و شناخت آں و رعایت آں موجب حل اشکال و سبب سلامت حال ست و آں ایں ست کہ اگر از جناب ربوبیت جل وتعالٰی خطابے و عتابے وسطوتے وسلطنتے واستغنائے واقع شود مثلا انک لا تھدی، ولیحبطن عملک، ولیس لک من الامر شیئ، وترید زینۃ الحیٰوۃ الدنیا و امثال آں یا از جانب نبوت عبودیتے یا انکسارے و افتقارے وعجزے ومسکنتے بوجود آید مثلا انما انا بشر مثلکم، اغضب کما یغضب العبد، ولا اعلم ماوراء ھذا الجدار، ما ادری ما یفعل بی ولا بکم ومانند آن مارا نباید دراں دخل کنیم او اشتراک جوئیم وانسباط نمائیم بلکہ بر حد ادب و سکوت و تحاشی توقف نمائیم خواجہ را می رسد کہ با بندۂ خود ھرچہ خواہد بگوید وبکند واستعلاء واستیلا نماید و بندہ نیز باخواجہ بندگی وفروتنی کند دیگرے راچہ مجال یا رائے آنکہ دریں مقام درآید ودخل کند وحدِ ادب بیروں رود ایں مقام پالغز بسیارے از ضعفا وجہلا و سبب تضرر ایشاں است و من ﷲ العصمۃ والعون۔ وﷲ تعالٰی اعلم

“واضح رہے کہ یہاں ادب اور قاعدہ یہ ہے جسے بعض اصفیا اور اہل تحقیق نے بیان کیا ہے اور اس کا جان لینا اور اس پر عمل پیرا ہونا مشکلات سے نکلنے کا حل اور سلامت رہنے کا سبب ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کسی مقام پر ﷲ رب العزت جل و علا کی طرف سے کوئی خطاب، عتاب، رعب ودبدبہ کا اظہار یا بے نیازی کا وقوع ہو مثلاً آپ ہدایت نہیں دے سکتے، آپ کے اعمال ختم ہوجائیں گے، آپ کے لئے کوئی شیئ نہیں، آپ حیات دنیوی کی زینت چاہتے ہیں اوراس کی مثل دیگر مقامات یا کسی جگہ نبی کی طرف سےعبدیت، انکساری، محتاجی و عاجزی اور مسکینی کا ذکر آئے مثلاً میں تمھاری طرح بشر ہوں، مجھے اسی طرح غصہ آتا ہے جیسے عبد کو آتا ہے اور میں نہیں جانتا اس دیوار کے ادھر کیا ہے، میں نہیں جانتا میرے ساتھ اور تمھارے ساتھ کیا کیا جائے گا اور اس کی مثل دیگر مقامات، ہم امتیوں اورغلاموں کو جائز نہیں کہ ان معاملات میں مداخلت کریں، ان میں اشتراک کریں اور اسے کھیل بنائیں بلکہ ہمیں پاسِ ادب کرتے ہوئے خاموشی وسکوت اور توقف کرنا لازم ہے، مالک کا حق ہے کہ وہ اپنے بندے سے جو چاہے فرمائے، اس پر اپنی بلندی کا غلبہ کا اظہار کرے، بندے کا بھی یہ حق کہ وہ اپنے مالک کے سامنے بندگی اور عاجزی کا اظہار کرے، دوسرے کی کیا مجال کہ وہ اس میں دخل اندازی کرے اور حد ادب سے باہر نکلنے کی کوشش کرے، اس مقام پر بہت سے کمزور اور جاہل لوگوں کے پاؤں پھسل جاتے ہیں جس سے وہ تباہ و برباد ہوجاتے ہیں، ﷲ تعالٰی محفوظ رکھنے والا اور مدد کرنے والا ہے۔ وﷲ تعالٰی اعلم”
(مدارج النبوۃ وصل در ازالۂ شبہات از بعضے آیات مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/۸۳)

تحریر کافی طویل ہوگئی۔ مفرور مناظر کی ایک ایک بات اور تضاد بیانی کا ترکی بہ ترکی جواب دیگر تحریروں میں دیا جائے گا۔ آخر میں مختصراً عرض ہے کہ موصوف نے ناپ تول میں کمی بیشی کا الزام اہل سنت پر لگایا ہے لیکن خود موصوف نے لفظ ذنب کی تاویل میں مفسرین کے اقوال پیش کرتے ہوئے جو ڈنڈی ماری ہے اس کا حساب باقی ہے۔ دوسرا پہلو جن مفسرین نے بیان کیا ہے، جسے امام احمد رضا نے اختیار کیا، اسے موصوف ہضم کر گئے۔
میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو۔۔۔۔۔!!!
لیکن انہیں کیا میٹھا لگا؟
اللہ کے نبی کے لیے گناہ، خطا، خلاف اولٰی والی تاویل اور کڑوا لگا تو انبیائے کرام کو معصوم ماننے والا تفسیری ترجمہ۔۔۔۔!

ظالمو! محبوب کا حق تھا یہی
عشق کے بدلے عداوت کیجیے

کیا امام اہل سنت نے لفظ ذنب کا جو تفسیری ترجمہ کیا ہے وہ متقدمین میں سے کسی مفسر نے نہیں کیا؟؟؟ یہ سوال آدھی ادھوری بات پیش کرنے والے مفرور مناظر سمیت مالیگاوں سے لے کر دیوبند تک کے تمام دیوبندی مولویوں پر قرض ہے اور اہل انصاف کو دعوتِ انصاف ہے کہ دیکھیں مولا ﷺ کا دفاع کون کررہا ہے اور اپنے مولوی کی جسارت کا دفاع کون کر رہا ہے؟؟؟

شذرہ: علمائے اہل سنت کی طرف سے جوابی تحریروں کا سلسلہ جاری ہوجانے اور مخالفین کو راہِ فرار کے علاوہ جب کوئی چارہ نہیں رہ جاتا اس وقت ثالثی بن کر یہ سب روکنے کے لیے آنے والے چودھری حضرات معاملہ کی نوعیت کو سمجھتے ہوئے اپنی ایمانی غیرت کو ناپ کر فیصلہ کیجیے گا کہ اس مرتبہ کھلم کھلا ناموسِ رسالت ﷺ پر جسارت کی گئی ہے۔

۸؍ محرم الحرام ۱۴۴۶ھ


خلیفۂ حضور قائد ملت حضرت مولانا مفتی نعیم رضا مصباحی، خطیب و امام مسجد صدرالشریعہ و نائب صدر آل انڈیا سنی جمیعۃ العلماء مالیگاؤں کا ایمان افروز خطاب۔
عنوان: کسی خبیث النفس کو ہرگز نبی ﷺ کی زیارت نہیں ہو سکتی!
بتاریخ: بروز جمعہ،
16 شوال المکرم 1445 ھ
بمطابق 26 اپریل 2024 ء


مفتی نعیم رضا مصباحی صاحب قبلہ کی اہم تقاریر واٹس ایپ پر حاصل کرنے کیلئے آل مالیگاؤں سنی گروپ میں شامل ہوجائیں۔ اِس کیلئے نیچے کِلک کریں۔
Join
بظاہر کلمہ پڑھنے والے لیکن دل میں نبی پاک ﷺ کا بغض رکھنے والے وہابیوں کے پیشواؤں  نے اللہ عزوجل اور رسول اکرم ﷺ کی شان میں کیا گستاخیاں کی ہیں؟ اِس کی تفصیل حوالے کے ساتھ جاننے کیلئے نیچے بٹن پر کِلک کریں:
حُسام الحرمین کیا ہے؟

فتاویٰ تاج الشریعہ، فتاویٰ رضویہ مترجم اور دیگر اہم کتابیں رعایتی ہدیے میں گھر بیٹھے حاصل کرنے کیلئے نیچے کِلک کیجیے:

Discount Books

Fatawa e Tajushshariya, Fatawa e Razawiya Mutarjam Aur Deegar Ahem Kitaben Discount Hadiye Me Ghar Baithe Hasil Karne ke Liye Niche Click Karen:
 

صحابی رسول، کاتب وحی، امیرالمؤمنین و خلیفۃ المسلمین حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل پر مبنی مضامین اور منقبت پڑھنے کیلئے نیچے کِلک کریں:

Click Here

Hazrat e Ameer e Muawiya Ki Shaan Me Poori Duniya Ke Bade Bade Ulma Ke Bayanat Aur Shandaar Manqabat Sun’ne Ke Liye Niche Click Karen:

Shane Ameere Muawiya

 

Ye Number Har WhatsApp Group Me Add Kijiye:
(+91) 7391-848541
705-87-786-87

 

Don`t copy text!