عصمتِ انبیا اور عقیدۂ سلف صالحین

Maslake Ala-Hazrat Zindabad!

عصمتِ انبیا اور عقیدۂ سلف صالحین

از: مولانا محمد اسماعیل الازہری لکھنوی
(معہد الامام الماتریدی للدراسات العلیاء، مالیگاؤں، مہاراشٹر)

چند دنوں پہلے مالیگاؤں کے اردو اخبار میں دیوبندی مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کی “فضائل یومِ عاشورہ ” کے بیان میں ایک تحریر آئی جس میں عصمتِ انبیا جیسے حساس مسئلے میں ایک قابلِ گرفت جملہ لکھا ہوا تھا کہ “یہی وہ دن ہے جس میں حق تعالیٰ نے محمدﷺ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیے۔” اس کے بعد جب ناموسِ رسالت کا درد رکھنے والے مسلمانوں نے نبیِ معصومﷺ کی طرف مطلقاً گناہ کی نسبت کرنے پر اپنا اعتراض درج کروایا تو اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے اسی مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے ایک اور شخص جن کے نام کے آگے نعمانی کی نسبت لگی ہوئی تھی، وہ ان کے دفاع میں اتر گئے۔

اعتراض اس بات پر تھا کہ قرآن وحدیث کی تفسیر و تشریح کے علاوہ خارج میں مطلقاً گناہ کی نسبت انبیائے کرام کی طرف آپ نے کیونکر کی، جب کہ آپ کا یہ فعل اجماعِ مسلمین کے خلاف ہے؟ لیکن جنابِ موصوف نے نہ دیکھا آؤ نہ دیکھا تاؤ اور نہ دیکھا یہ کہ محلِ نزاع کیا ہے اور اتر پڑے اپنے صاحب کے دفاع میں. یہ بھی نہ سوچا کہ اس سے نبی معصوم کی شان ارفع و اعلیٰ کی طرف گناہ کا وہم جارہا ہے اور اپنی ساری قوت اس پر دلائل جمع کرنے میں صرف کردی کہ قرآن وحدیث میں “ذنب” کی نسبت محمدﷺ کی طرف کی گئی ہے اور وہاں پر مفسرین نے اس کا حقیقی معنی مراد نہیں لیا ہے بلکہ “حسنات الابرار سیئات المقربین” کے تحت اس سے مراد “خلافِ اولی” ہے۔

لیکن وہ اس بات کو سمجھ نہ سکے، یا سمجھے لیکن اپنے صاحب کی رسوائی کو چھپانے کے لیے تجاہلِ عارفانہ سے کام لیا کہ مسئلہ مختلف فیہا یہ تو تھا نہیں کہ قرآن وحدیث میں ذنب کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کی گئی ہے یا نہیں اور جب کی گئی ہے تو اس سے مراد خلاف اولی ہے، بلکہ مسئلہ مختلف فیہا یہ تھا کہ قرآن وحدیث کے علاہ خارج میں کسی نبی کی طرف مطلقاً گناہ کی نسبت کرنا، جو کہ آپ کے صاحب نے کی ہے، جائز ہے یا نہیں؟

لیکن بُرا ہو تعصب کا کہ مسئلہ مختلف فیہا پر ایک بھی دلیل یا کسی بھی امام کا قول پیش نہ کرسکے اور مسئلہ متفق علیہا پر دلائل کے انبار لگادیے، ہائے وقت کی ضیاع کاریاں اور خرد کی پستیاں۔۔۔!

جنابِ موصوف مسئلہ مختلف فیہا پر ایک بھی دلیل پیش نہ کرسکے اور کرتے بھی کہاں سے؟ جب تھی ہی نہیں!

اس لیے ہماری زبانی اس پر کچھ دلائل سن لیجیے تاکہ ناموسِ رسالت کا درد رکھنے والوں اور عصمتِ انبیا پر مر مٹنے والوں کے دل کو کچھ قرار آئے لیکن اس سے پہلے عصمتِ انبیا کے متعلق اجماعِ امت ملاحظہ کرلیجیے اور جناب موصوف نے جن تفاسیر کے حوالے دیے ہیں ان کا بھی جائزہ لیتے چلیے:

پہلی بات تو یہ کہ از خلف تا سلف اس بات پر پوری امت کا اجماع ہے کہ قبلِ اور بعدِ نبوت انبیا کرام سے گناہ کبیرہ اور گناہ صغیرہ منفِّرہ صادر نہیں ہوسکتے۔

(شرح المواقف، تبصرۃ الادلۃ لابی المعین، الاعتماد شرح العمدہ لابی البرکات النسفی)

اس کا انکار جنابِ موصوف بھی نہیں کرسکتے جیسا کہ اپنی تحریر کے شروع میں انہوں نے اپنا موقف بیان بھی کیا تھا۔

اور دوسری بات یہ کہ قرآن وحدیث میں جہاں پر ذنب ومعصیت کی نسبت امام الانبیاء کی طرف ہے، جیسے کہ سورۂ فتح کی یہ آیتِ مبارکہ: “اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیۡنًا ﴿۱﴾لِّیَغْفِرَ لَکَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡۢبِکَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیۡکَ وَ یَہۡدِیَکَ صِرٰطًا مُّسْتَقِیۡمًا ۙ﴿۲﴾” تو اس کے بارے میں مفسرین کی دو رائے ہیں، ایک رائے تو یہ ہے کہ اس ذنب کی نسبت محمد ﷺ کی طرف نہیں ہے بلکہ اس سے مراد مومنین اور ان کے امتی کے گناہ ہیں جیسا کہ امام ابو منصور ماتریدی نے اپنی تفسیر “تاویلات اہلِ سنت” میں، امام رازی نے “تفسیر رازی” میں اور امام واحدی نے تفسیر “الوجیز” میں مذکورہ آیت مبارکہ کی تفیسر کےتحت اس قول کو نقل کیا ہے اور اس قول کو مشہور تابعی حضرت عطا بن رباحہ کی طرف بھی منسوب کیا جاتا ہے حالاں کہ بعض مفسرین کے نزدیک یہ بعید معنی ہے لیکن لغۃً و شرعاً اس قول کی بالکلیہ نفی نہیں کی جاسکتی۔

اور اس بارے میں مفسرین کرام کی ایک دوسری رائے یہ بھی ہے کہ یہاں پر ذنب کی نسبت آقا کریم ﷺ کی طرف کی گئی ہے لیکن چوں کے اس رائے کے مطابق اس کے ظاہری معنیٰ دلائل عقلیہ ونقلیہ اور اجماعِ امت کے خلاف ہیں اس لیے اب انہیں اس آیت کی تاویل کی ضرورت پڑی اور سبھی نے اس کی تاویل میں فرمایا کہ اس “ذنب” سےمراد اس کا حقیقی معنی یعنی “جس پر عذاب دیا جانا صحیح ہو” مراد نہیں ہے بلکہ اس سے مراد ترکِ خلافِ اولی ہے جس کا ارتکاب اگر ہم کریں تو ہمارے لیے ہر گز ذنب شمار نہ ہو لیکن نبی آخر الزماں کے بارگاہِ الہی میں مقامِ ارفع واعلیٰ کو دیکھتے ہوئے “حسنات الابرار سیئات المقربین” کے تحت اسے ذنب سے تعبیر کیا گیا اوراس تعبیر کا حق بھی صرف اس نبی معصوم کے پروردگار کو ہے نہ کہ ہر ایرا غیرا اٹھ کر نبی کو گنہگار، خاطی اور مذنب کہنے لگ جائے. العیاذ باللہ۔۔۔! کہاں انبیاء معصومین کی یہ بارگاہِ عالیہ اور کہاں یہ زبان درازیاں، بے باکیاں اور گستاخیاں!

 

اب آئیے ذرا مسئلہ مختلف فیہا یعنی قرآن وحدیث کے علاوہ خارج میں کسی بھی نبی معصوم اور بالخصوص امام المعصومین محمد مصطفی ﷺ کی طرف مطلقا گناہ وذنب کی نسبت کرنا جائز ہے، یا نہیں؟ اس پر بھی کچھ بات کرلیں:

اس کے لیے سب سے پہلے ان مفسرین کرام جن کا وہ خود حوالہ دے رہے ہیں اور ان کے علاوہ دوسرے علمائے اسلام کا موقف بھی دیکھ لیں۔

جن علامہ محمد بن یوسف الاندلسی کی تفسیر کا حوالہ جناب موصوف نے دیا، انہیں کی تفسیر کے کچھ اوراق پلٹ لیتے تو بات سمجھ میں آجاتی اور اپنے صاحب کا دفاع کرنے کی بجائے ان کی اصلاح کررہے ہوتے اور قبول حق کا مظاہرہ کرتے:

قال صاحب البحر المحيط العلامة محمد بن يوسف الأندلسي نقلا عن العلامة محمد بن عمر بن يوسف القرطبي الأندلسي: وَقَالَ الْقَاضِي أَبُو بَكْرِ بْنُ الْعَرَبِيِّ: لَا يَجُوزُ لِأَحَدِنَا الْيَوْمَ أَنْ يُخْبِرَ بِذَلِكَ عَنْهُ عليه السلام إِلَّا إِذَا ذَكَرْنَاهُ فِي أَثْنَاءِ قَوْلِهِ تَعَالَى أَوْ قَوْلِ نَبِيِّهِ عليه السلام، فَإِمَّا أن يبتدىء ذَلِكَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ فَلَيْسَ بِجَائِزٍ لَنَا فِي آبائنا الأولين إِلَيْنَا الْمُمَاثِلِينَ لَنَا، فَكَيْفَ فَفِي أَبِينَا الْأَقْدَمِ الْأَعْظَمِ الْأَكْرَمِ النَّبِيِّ الْمُقَدَّمِ الَّذِي اجْتَبَاهُ اللَّهُ وَتَابَ عَلَيْهِ وَغَفَرَ لَهُ.

صاحب بحر المحیط علامہ محمد بن یوسف اندلسی نے علامہ محمد بن عمر بن یوسف قرطبی اندلسی کا قول نقل کرتے ہوئے لکھا کہ  قاضی ابوبکر ابن العربی رضی ﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا: ہم میں سے کسی کو اجازت نہیں کہ آج وہ حضرت آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بارے میں ایسی بات کی اطلاع دے، البتہ صرف اس صورت میں جب وہ ﷲ تعالٰی کا یہ فرمان یا نبی اکرم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی حدیث مبارک پڑھ رہا ہو۔ ہم اپنی طرف سے ایسے واقعات کو بیان کرنا شروع کر دیں تو یہ ہم اپنے ان آبا ء کو نہیں کہہ سکتے جو ابھی قریب کے زمانے کے ہیں اور ہماری ہی طرح ہیں، تو اس ہستی کے بارے میں یہ کیسے جائز ہوگا جو ہم سب کے باپ ہیں، پوری انسانیت میں سب سے اقدم، سب سے اعظم، سب سے اکرم اور سب پر مقدم ہیں، جن کو اللہ نے چُنا، ان کی توبہ قبول کی اور ان کی مغفرت فرمائی۔

(تفسير القرطبي، سورة طه، الآية: 122.)

امام ابو عبداللہ محمد بن عبدری ابن الحاج مدخل میں فرماتے ہیں:

قد قال علما ؤ نا رحمہم اللّٰہ تعالٰی ان من قال عن نبی من الانبیاء علیھم الصّلاۃ والسلام فی غیر التلاوۃ والحدیث انہ عصٰی اوخالف فقد کفر نعوذ باللّٰہ من ذلک۔ “ہمارے علماء رحمہم اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ جوشخص انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام میں سے کسی نبی کے بھی بارے میں غیر تلاوت وحدیث میں یہ کہے کہ انہوں نے نا فرمانی یا خلاف ورزی کی تو وہ کافرہے، اس سے ہم خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔”
(مدخل لابن الحاج ؛ فصل فی مولد النبی صلی اللہ علیہ وسلم؛بیروت۲ /۱۵)

علامہ شہاب الدین خفاجی (متوفیٰ 1069ھ) نسیم الریاض شرح شفا قاضی عیاض میں فرماتے ہیں :الدعاء بھا ( ای بالمغفرۃ) لہ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم من امتہ لاینبغی لایھامہ القصور من المدعو لہ کالدعاء لہ بالرحمۃ واما قول ﷲ تعالٰی لیغفر لک ﷲ ماتقدم من ذنبک وما تأخر و دعاؤہ لنفسہ بالمغفرۃ فلا یقاس علیہ۔

“امت کی طرف سے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے دعا (برائے مغفرت) جائز نہیں، کیونکہ اس میں آپ سے کوتاہی کا وہم ہوتا ہے جیسے کہ آپ کے لیے رحمت کی دعا کرنا بھی مناسب نہیں، رہا معاملہ ﷲ تعالٰی کے اس ارشاد گرامی کا کہ ” ﷲ تعالٰی نے معاف فرما دیے آپ کے معاملات سابقہ اور آنے والے” اور آپ کا اپنے لیے مغفرت کی دعا کرنا تو اس پر دیگر کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔”
( نسیم الریاض شرح الشفاء؛ فصل فی کیفیۃ الصلٰوۃ علیہ ؛ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳/۴۸۵)

   حضرت شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہٗ مدارج النبوۃ شریف میں فرماتے ہیں: بدانکہ ایں جا ادبے وقاعدہ ایں ست کہ بعضے از صفیا و از اہل تحقیق ذکر کردہ اند و شناخت آں و رعایت آں موجب حل اشکال و سبب سلامت حال ست و آں ایں ست کہ اگر از جناب ربوبیت جل وتعالٰی خطابے و عتابے وسطوتے وسلطنتے واستغنائے واقع شود مثلا انک لا تھدی، ولیحبطن عملک، ولیس لک من الامر شیئ، وترید زینۃ الحیٰوۃ الدنیا و امثال آں یا از جانب نبوت عبودیتے یا انکسارے و افتقارے وعجزے ومسکنتے بوجود آید مثلا انما انا بشر مثلکم، اغضب کما یغضب العبد، ولا اعلم ماوراء ھذا الجدار، ما ادری ما یفعل بی ولا بکم ومانند آن مارا نباید دراں دخل کنیم او اشتراک جوئیم وانسباط نمائیم بلکہ بر حد ادب و سکوت و تحاشی توقف نمائیم خواجہ را می رسد کہ با بندۂ خود ھرچہ خواہد بگوید وبکند واستعلاء واستیلا نماید و بندہ نیز باخواجہ بندگی وفروتنی کند دیگرے راچہ مجال یا رائے آنکہ دریں مقام درآید ودخل کند وحدِ ادب بیروں رود ایں مقام پالغز بسیارے از ضعفا وجہلا و سبب تضرر ایشاں است و من ﷲ العصمۃ والعون ۔ وﷲ تعالٰی اعلم

“واضح رہے کہ یہاں ادب اور قاعدہ یہ ہے جسے بعض اصفیا اور اہلِ تحقیق نے بیان کیا ہے اور اس کا جان لینا اور اس پر عمل پیرا ہونا مشکلات سے نکلنے کا حل اور سلامت رہنے کا سبب ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کسی مقام پر ﷲ رب العزت جل وعلا کی طرف سے کوئی خطاب، عتاب، رعب ودبدبہ کا اظہار یا بے نیازی کا وقوع ہو، مثلاً: آپ ہدایت نہیں دے سکتے، آپ کے اعمال ختم ہوجائیں گے، آپ کے لئے کوئی شیئ نہیں، آپ حیات دنیوی کی زینت چاہتے ہیں اوراس کے مثل دیگر مقامات یا کسی جگہ نبی کی طرف سےعبدیت، انکساری، محتاجی و عاجزی اور مسکینی کا ذکر آئے مثلاً میں تمھاری طرح بشر ہوں، مجھے اسی طرح غصہ آتا ہے جیسے عبد کو آتا ہے اور میں نہیں جانتا اس دیوار کے اُدھر کیا ہے، میں نہیں جانتا میرے ساتھ اور تمھارے ساتھ کیا کیا جائے گا اور اس کے مثل دیگر مقامات، تو ہم امتیوں اورغلاموں کو جائز نہیں کہ ان معاملات میں مداخلت کریں، ان میں اشتراک کریں اور اسے کھیل بنائیں بلکہ ہمیں پاسِ ادب کرتے ہوئے خاموشی و سکوت اور توقف کرنا لازم ہے، مالک کا حق ہے کہ وہ اپنے بندے سے جو چاہے فرمائے، اس پر اپنی بلندی کا غلبہ کا اظہار کرے، بندے کا بھی یہ حق ہے کہ وہ اپنے مالک کے سامنے بندگی اور عاجزی کا اظہار کرے، دوسرے کی کیا مجال کہ وہ اس میں دخل اندازی کرے اور حد ادب سے باہر نکلنے کی کوشش کرے۔ اس مقام پر بہت سے کمزور اور جاہل لوگوں کے پاؤں پھسل جاتے ہیں جس سے وہ تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔ ﷲ تعالٰی محفوظ رکھنے والا اور مدد کرنے والا ہے۔ وﷲ تعالٰی اعلم”
(مدارج النبوۃ، فصل در ازالۂ شبہات از بعضے آیات مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/۸۳)

یہ تو تھا انبیائے کرام کی طرف  مطلقاً گناہ کی نسبت کرنے کے بارے میں اسلاف کا موقف، جن کا مقام بہت ارفع واعلی ہے۔ حالانکہ یہی بات مقامات انبیائے کرام کے لحاظ میں برائے اصلاح ہم ان سے کہہ رہے ہیں تو وہ اس بات پر چیں بجبیں ہورہے ہیں اور صرف اس وجہ سے ان کے خاطر پر یہ اصلاح گراں گزر رہی ہے کہ یہ اصلاح ہماری طرف سے ہوئی بھی تو کیوںکر؟ جب کہ یہی اصلاح ہم سے بہت پہلے انھیں کے مکتبۂ فکر کے ایک پیروکار مودودی صاحب کی کرچکے ہیں، جب وہ اپنے ترجمۂ قرآن میں نبی کی طرف مطلقاً گناہ کی نسبت کر بیٹھے تھے، اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے فارسی ترجمہ اور شاہ رفیع الدین اور شاہ عبدالقادر دہلوی کے اردو لفظی ترجمہ ’’گناہ‘‘ کرنے پر ان کی طرف سے عذر اور تاویلیں بھی پیش کی ہیں، وہ بھی ملاحظہ ہو، “وشھد شاھد من أھلہ” چنانچہ مولانا قاضی مظہر حسین چکوالی (خلیفۂ مجاز حسین احمد مدنی) اپنی کتاب ’’علمی محاسبہ‘‘ (مطبوعہ چکوال پاکستان) میں لکھتے ہیں :

’’یہاں شاہ عبدالقادر صاحب مفسر دہلوی قدس سرہ نے ’’ذنب‘‘ کا ترجمہ جو گناہ لکھا ہے تو وہ مجازاً اور صورتاً نہ کہ حقیقتاً کیونکہ محکم آیات سے امام المعصومین صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلقاً معصوم ہونا ثابت ہے اور اُس دور میں چونکہ اہل سنت والجماعت کے عقائد سے تعلیم یافتہ لوگ تھے اور علمی طور پر ایسے مسائل حل کیے جاتے تھے اس لیے ذنب کا ترجمہ گناہ لکھنے سے غلط فہمی کا موقع کم ملتا تھا لیکن موجودہ دور میں چونکہ اہل سنت کے بنیادی عقائد کی تعلیم کم ہے اور بجائے حق پسندی کے حجت بازی کا زور ہے اس لیے ’ذنب‘ کا ترجمہ ایسے کرنا چاہیے جو اس کی حقیقی مراد ہے چنانچہ حکیم الامت حضرت تھانوی نے ذنب کا ترجمہ خطا لکھا ہے۔‘‘
(علمی محاسبہ؛ صفحہ ۲۹۸ مطبوعہ چکوال)

اب جناب موصوف سے ہماری گزارش ہے کہ ہماری اصلاح اگر آپ کے خاطر پر بجلی گراتی ہے، تو اپنے ہی مکتبۂ فکر کی ایک مقبول شخصیت کی اصلاح قبول فرما لیجیے اور اعتراف کر لیجیے کہ ہمارے صاحب کو اس طرح مطلقاً نبی معصوم کی طرف گناہ کی نسبت نہیں کرنی چاہیے تھی، بصورت دیگر آپ ہمیں یہ کہنے پر مجبور کریں گے کہ جناب آپ کے مکتبۂ فکر میں حق و باطل کو ناپنے کے دو پیمانے ہیں، غیر وہی کام کرے تو اس کے لیے یہ گناہِ عظیم شمار ہو اور آپ کا کوئی منظورِ نظر وہی کام کرے تو عینِ صواب ہوجائے کہ اس کے خلاف بولنا بھی آپ کے دل پر بجلی گرائے!

جنابِ موصوف! اب چلتے چلتے ہمارے کچھ سوالات بھی سنتے جائیے اور اگر آپ اپنے حبِ نبی اور اسلام کے لیے مخلص ہونے کے دعوے میں سچے ہیں تو اس پر سنجیدگی سے غور کیجیے اور پھر ان کا جواب دینے کی زحمت ضرور گوارا فرمائیے:

(1) آپ نے اپنی تحریر میں اپنے صاحب کی طرف سے یہ صفائی پیش کردی کہ ہم نے جو نبی معصوم کی طرف گناہ کی نسبت کی ہے، اس سے مراد ترکِ خلاف اولی ہے، اس سے آپ فقہا کے مذہب میں تو اپنا دامن بچا لے گئے، لیکن کیا اہلِ ادب کے مذہب میں بھی آپ بری ہوسکتے ہیں؟ کیا کسی نبی معصوم کو بغیر کسی قید کے گنہگار کہنا ادب کے خلاف نہیں ہے، اگرچہ اس سے مراد آپ نے خلافِ اولی لیا ہو؟ پھر یہ کہ وہ رب ہے اور آقا ﷺ اس کے بندے اور رسول! وہ اپنے بندے و رسول کو جس طرح چاہے خطاب کرے، آپ کو کس نے حق دیا کہ آپ بھی خدا بن کر اپنے آقا کے لیے وہی الفاظ استعمال کیجیے جو ان کے رب نے ان کے لیے کیا؟ حبِ نبی کا دعویٰ کرنے والے سے تو ایسی امید نہیں ہے!

(2) آپ لاکھ کہیں کہ گناہ سے مراد ہم نے ترکِ خلاف اولی لیا ہے، لیکن کیا مطلقاً بغیر کسی وضاحت کے آقاﷺ کی طرف گناہ کی نسبت کرنا غیروں کی نظر میں شریعت کی اساس منہدم کرنے کے مترادف نہیں ہے، کیوں کہ اگر کسی نے آپ کے مطلقاً “لفظ گناہ” کو اس کے حقیقی معنی پر محمول کرلیا اور اس کی نظر میں انبیا سے ہر طرح کے گناہ کا صدور ممکن ہوگیا، تو اب یہ گناہ جھوٹ بھی ہوسکتا ہے، خیانت بھی ہوسکتا ہے، اصل پیغامِ خدا کو چھپانا بھی ہوسکتا ہے، اب جب یہ سارے احتمالات ممکن ہوگئے تو پھر یہ بھی تو ممکن ہوگیا کہ ہوسکتا ہے محمدﷺ نے دنیاوی منصب وشہرت حاصل کرنے کے لیے اپنی نبوت کا جھوٹا دعوی کیا ہو؟ معاذ اللہ! یا ان کے پاس خدا کا یہ پیغام آیا ہو کہ آپ عیسیٰ یا موسیٰ کے نائب بن کر جائیں گے دنیا میں لیکن آپ نے اس پیغام میں خیانت کی اور خود ان کے دین کے خاتم بن بیٹھے۔ معاذ اللہ! یا ان پر یہ وحی اتری ہو کہ آپ کے بعد نبی مرزا غلام احمد قادیانی ہوگا لیکن آپ نے اپنی حکومت کو ہمیشہ کے لیے قائم رکھنے کے لیے یہ پیغام چھپا لیا ہو۔ معاذ اللہ! اور صرف زورِ کلام دکھانے کے لیے یہ کوئی فرضی واختراعی احتمالات نہیں بتائے جارہے ہیں بلکہ آج مستشرقین اور ملحدین ان آیتوں کے ظاہری معنیٰ کو مراد لے کر یہ بولیاں بول رہے ہیں، یقین نہ آئے تو ایک بار نیٹ پر سرچ کرکے دیکھ لیجیے! لیکن افسوس یہ ہے کہ مدعی حُبِ نبی جنابِ موصوف سے جب ان احتمالات کا دروازہ بند کرنے کے لیے کہا جاتا ہے کہ آپ مطلقاً عام بول چال میں نبی کی طرف گناہ کی نسبت نہ کیجیے تو وہ چیں بجبیں ہوجاتے ہیں۔

مختصر یہ کہ کیا آپ کے صاحب کا یہ عمل بارگاہِ نبوی کے ادب کے خلاف نہیں تھا؟ کیا آپ کے صاحب کا یہ قول شریعت مطہرہ میں شکوک وشبہات کا دروازہ نہیں کھولتا ہے؟ کیا آپ کے ان صاحب کے قول سے غیروں کو ثوابتِ اسلام کے خلاف منھ کھولنے کا موقع نہیں مل رہا ہے؟ کیا آپ کے صاحب کا یہ قول اجماعِ امت کے خلاف نہیں ہے؟ کیا آپ کے صاحب کے اس قول سے ملک وملت کا امن وسکون متاثر نہیں ہورہا ہے؟ کیا آپ کے صاحب کے اس قول سے عام مسلمانوں کی دل آزاری نہیں ہورہی ہے؟ اگر یہ سب کچھ ہورہا ہے تو پھر آپ ان کی طرفداری میں کیوں کھڑے ہیں؟ ان سے اپنی براءت کا اظہار کیجیے اور اپنے دعویِ حبِ نبی کو سچا ثابت کرنے کے لیے عاشقانِ رسول کی صف میں آکھڑے ہوجائیے!

پیارے حبیب کو پکار، پیارے نبی کا نام لے
دامنِ مصطفی میں آ، پائے رسول تھام لے

آخر میں رہا وہ الزام جو آپ نے امام اہل سنت امام احمد رضا محدث بریلوی کے ترجمۂ قرآنی پر لگایا ہے کہ وہ تفسیر بالرائے ہے اور گھوٹالا ہے اور بھی بہت کچھ….. حالانکہ اس الزام کی حقیقت اوپر ذکر کی گئی مفسرین کی دو آراء سے ظاہر ہوجاتی ہے، پھر اس قدر سے اگر آپ کو اطمینانِ دل حاصل نہ ہو تو صبر وشکیب کا دامن تھام کر اگلی قسط میں اس الزام تراشی کی تفصیلی حقیقت سننے کے لیے خود کو تیار رکھیے۔

جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


خلیفۂ حضور قائد ملت حضرت مولانا مفتی نعیم رضا مصباحی، خطیب و امام مسجد صدرالشریعہ و نائب صدر آل انڈیا سنی جمیعۃ العلماء مالیگاؤں کا ایمان افروز خطاب۔
عنوان: کسی خبیث النفس کو ہرگز نبی ﷺ کی زیارت نہیں ہو سکتی!
بتاریخ: بروز جمعہ،
16 شوال المکرم 1445 ھ
بمطابق 26 اپریل 2024 ء


مفتی نعیم رضا مصباحی صاحب قبلہ کی اہم تقاریر واٹس ایپ پر حاصل کرنے کیلئے آل مالیگاؤں سنی گروپ میں شامل ہوجائیں۔ اِس کیلئے نیچے کِلک کریں۔
Join
بظاہر کلمہ پڑھنے والے لیکن دل میں نبی پاک ﷺ کا بغض رکھنے والے وہابیوں کے پیشواؤں  نے اللہ عزوجل اور رسول اکرم ﷺ کی شان میں کیا گستاخیاں کی ہیں؟ اِس کی تفصیل حوالے کے ساتھ جاننے کیلئے نیچے بٹن پر کِلک کریں:
حُسام الحرمین کیا ہے؟

فتاویٰ تاج الشریعہ، فتاویٰ رضویہ مترجم اور دیگر اہم کتابیں رعایتی ہدیے میں گھر بیٹھے حاصل کرنے کیلئے نیچے کِلک کیجیے:

Discount Books

Fatawa e Tajushshariya, Fatawa e Razawiya Mutarjam Aur Deegar Ahem Kitaben Discount Hadiye Me Ghar Baithe Hasil Karne ke Liye Niche Click Karen:
 

صحابی رسول، کاتب وحی، امیرالمؤمنین و خلیفۃ المسلمین حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل پر مبنی مضامین اور منقبت پڑھنے کیلئے نیچے کِلک کریں:

Click Here

Hazrat e Ameer e Muawiya Ki Shaan Me Poori Duniya Ke Bade Bade Ulma Ke Bayanat Aur Shandaar Manqabat Sun’ne Ke Liye Niche Click Karen:

Shane Ameere Muawiya

 

Ye Number Har WhatsApp Group Me Add Kijiye:
(+91) 7391-848541
705-87-786-87

 

Don`t copy text!