GAREEB NAWAZ Masjid Shaheed Kar Di Gai!

Maslake Ala-Hazrat Zindabad!

Masjid Gareeb Nawaz File Photo
Masjid Gareeb Nawaz Shaheed Kar Di Gai!
Masjid Gareeb Nawaz Shaheed Kar Di Gai!

Ye Number Har WhatsApp Group Me Add Karo:
(+91) 7058778687
mySunni.com

Masjid Gareeb Nawaz Shaheed Kar Di Gai!
Masjid Gareeb Nawaz Shaheed Kar Di Gai!
Masjid Gareeb Nawaz Shaheed Kar Di Gai!
Masjid Gareeb Nawaz Shaheed Kar Di Gai!
Masjid Gareeb Nawaz Shaheed Kar Di Gai!
UP Ke Cheif Minister Ko Memorandum Diya Gaya
Samaj Wadi Party Ko Memorandum Diya Gaya
President Of India Ko Memorandum Diya Gaya
Masjid Gareeb Nawaz Shaheed Kar Di Gai!

۷۸۶/۹۲
سمیر گنج تحصیل والی غریب نواز مسجد کو شہید کرنا ہندوستانی آئین کا قتل ہے

قرآنِ پاک میں ہے “بے شک مسجدیں اللہ کی عبادت کے لیے ہیں” مسجد ہمیشہ پاک صاف ستھری زمین پر پاک جائز اور حلال کمائی سے بنائی جاتی ہے، جس زمین پر ایک مرتبہ مسجد بن جائے تا قیامِ قیامت تحت الثّریٰ سے لے کر عرشِ اعظم تک وہ مسجد ہی رہتی ہے اگر عمارت شہید بھی کردی جائے، پھر بھی مسجد کی مسجدیت ختم نہیں ہوتی، سمیر گنج تحصیل والی مسجد جس کو “مسجد غریب نواز ” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ،وہ اب بھی مسجد ہے خدا نخواستہ وہاں کوئی دوسری عمارت بنادی جائے پھر بھی وہ مسجد ہی رہے گی، تحصیل سمیر گنج کی مسجد سو سال قبل تعمیر کی گئی تھی، ردولی کے رہنے والے چودھری محمد انوار صاحب جو وہیں تحصیل میں دستاویز لکھنے کا کام کرتے تھے وہاں سمیر گنج کے مسلمانوں نے انہیں مسجد کا متولی بنایا تھا، اتفاق رائے سے متولی بننے کے بعد ۱۹۶۸ میں انہوں نے وقف بورڈ میں مسجد کا اندراج کرایا چکبندی کے کاغذات اور خسرہ میں بھی مسجد درج ہے، مسجد کا بل بھی متولی محمد انوار کے نام سے ۱۹۵۹ سے آ رہا ہے مارچ ۲۰۲۱ تک سارا بل جمع بھی ہے ابھی چند سال قبل ان کا انتقال ہو گیا ہے ـــ حاجی خلیل اللہ صاحب جو ۲۲ سال تک تحصیل سمیر گنج میں ملازمت کے فرائض انجام دے رہے تھے، اب بھی زندہ ہیں، انہوں نے بتایا کہ میں نے ہمیشہ جمعہ اور پنچ وقتہ نمازیں ۲۲ سال ۱۹۶۷ سے لے کر ۱۹۸۹ تک اسی تحصیل کی مسجد میں پڑھی ہیں ،اسی طرح دریا آباد کے رہنے والے قاضی انوار مصطفیٰ صاحب جنہوں نے پوری زندگی سمیر گنج کی اسی تحصیل میں دستاویز لکھنے کا کام کیا اب بھی بقید حیات ہیں انہوں نے بتایا کہ میں نے ۱۹۶۷ سے ہمیشہ اسی تحصیل کی مسجد میں نمازیں پڑھیں ہیں ــ
۱۷/ مئی کی شام کو تحصیل کے ذمہ داروں کی طرف سے طاقت کے بل پر مسلمانوں کو خوف زدہ کر کے مسجد کو شہید کرنا ہندوستانی آئین کا قتل ہے، جس سے پوری دنیا میں ہمارے ملک کی بد نامی ہو رہی ہے، بارہ بنکی شہر اور ضلع کے قاضئ شرع ہونے کے سبب میں حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ “سب کا ساتھ سب کا وکاس اور سب کا وشواش” کا نعرہ عملی طور پر پورا کیا جائے اور دوبارہ اسی جگہ پر مسجد جلد از جلد تعمیر کی جائے،ساتھ ہی ہمیں وہاں اذان،نماز،کی اجازت دی جائے،مسجد اور مسجد کی چٹائی، مصلے، تسبیح اور قرآن مقدس کی بے حرمتی کرنے والے ذمہ داروں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے تاکہ ملک کا امن و سکون قائم رہے ــ
آج بھی ہندوستان میں اتنا لحاظ کیا جاتا ہے کہ سیدنا امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کے تعزیہ کے نام پر جو چبوترہ بنایا جاتا ہے یا ایک برگد کے درخت میں کچھ لوگ دھاگے باندھتے ہیں، کسی ڈی ایم، ایس ڈی میں یہ ہمت نہیں کہ اسے ختم کر سکے تو سو سالہ قدیم مسجد کو کس قانون کے تحت شہید کر دیا گیا، جب کہ کورونا کی مہاماری کے سبب ہائی کورٹ نے قانون بنا دیا ہے ۳۱/مئی تک کوئی عمارت نہ گرائی جائے ـــ
آواز دو انصاف کو انصاف کہاں ہے ـــ

خون دل دے کے نکھاریں گے رخ برگِ گلاب
ہم نے گلشن کو سجانے کی قسم کھائی ہے

(مولانا) عبد المصطفیٰ صدیقی حشمتی
قاضئ شرع بارہ بنکی وردولی شریف

Masjid Gareeb Nawaz Shaheed Kar Di Gai!
Don`t copy text!