جامعہ حنفیہ سُنیہ

Maslake Ala-Hazrat Zindabad!

کامیاب زندگی گزارنے کا طریقہ
از: مفتی ابو یوسف محمد قادری
بموقع: جشن دستار بندی
جامعہ حنفیہ سنیہ، مالیگاؤں
بتاریخ: 5 شعبان المعظم 1445 ھ
بمطابق 15 فروری 2024 ء

ان شاء اللہ تعالیٰ اجلاس کی بقیہ تقاریر بھی جلد پیش کی جائیں گی۔

کامیاب زندگی گزارنے کا طریقہ

رفیقانِ گرامی!

 آج کا یہ مبارک اجلاس مدرسہ حنفیہ سنیہ کے سالانہ جشنِ دستار بندی کا اجلاس ہے، جس میں ایک جماعتِ حُفاظ اور علماء کو دستار فضیلت سے نوازا جائے گا۔ یہ علماء اور حُفاظ ملک کے کونے کونے میں جا کر دین و سنیت کی خدمت انجام دیں گے اور اپنے اس محبوب ادارے کا نام روشن کریں گے۔

 یاد رکھیے کہ انسان کے اوپر جس کا احسان ہوتا ہے، وہ اپنے محسن کو ہمیشہ یاد رکھتا ہے۔ یہ انسان کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ اگر انسان اپنے محسن کو بھول گیا تو نہ زمانے میں اسے اچھا تصور کیا جاتا ہے، نہ معاشرے میں اسے اچھا مانا جاتا ہے، اور نہ وہ خود اپنی نگاہوں میں اٹھ پاتا ہے۔ اس لیے آج علم کی سوغات جن لوگوں کو یہاں سے ملی، ان سے یہ درخواست ہے کہ وہ دنیا میں جہاں کہیں رہیں، اپنے اس محبوب ادارے کو یاد رکھیں۔

 رفیقانِ گرامی! زمانۂ طالبِ علمی تو بے فکری کا زمانہ ہے، لیکن جس وقت سر پر یہ عظیم دولت سجا دی جاتی ہے، تو اس وقت اپنی ذمہ داریوں کا احساس وہی کرتا ہے جس کے سینے میں علم بھرا ہوتا ہے۔ یہ نہ سمجھیے گا کہ دستار مل گئی، مولانا ہو گیا، اب آزاد ہو گیا۔ مدرسے سے آزاد، اب کوئی قانون میرے اوپر نہیں چلنے والا۔ لیکن اسلام کا قانون آپ کے اوپر ہمیشہ رہے گا، چاہے آپ مدرسے میں ہوں، چاہے آپ گھر پر ہوں، چاہے آپ بازار میں ہوں، چاہے آپ مجمع میں ہوں، چاہے آپ تنہائیوں میں ہوں۔ کوئی بھی قوانین اسلام سے باہر نہیں ہوسکتا۔

 جو ذمہ داریاں علماء کے کندھوں پر رکھی گئی ہیں، حقیقت میں عالم اسی کو قرآن میں فرمایا ہے کہ اللہ کے بندوں میں سب سے زیادہ جو اللہ سے ڈرتے ہیں وہ علماء کی جماعت ہے۔ اب یہاں سے ایک مسئلہ حل ہو گیا اور سمجھ میں آگیا کہ جو دستار باندھنے کے بعد بالکل اپنے آپ کو شریعت کے قوانین سے باہر سمجھتے ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق جو چاہے وہ کرتے ہیں، وہ لوگ اگرچہ سند کے اعتبار سے عالم ہیں، لیکن حقیقت میں وہ عالم نہیں۔ یہ تو علماء کی بات تھی، لیکن مسلمانوں کے بارے میں میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

الدنیا سجن للمؤمن؛ دنیا مسلمانوں کا قید خانہ ہے

 یہاں مالیگاؤں میں کچھ احتجاج ہوئے تھے۔ آج بھی بہت بے گناہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ کچھ اُن میں وہ بھی خوش نصیب ہیں جو باہر آ گئے، لیکن میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ جو باہر آ گئے، آپ ان سے جیل کے اندر کے حالات کے بارے میں پوچھیے کہ جیل کہتے کس کو ہیں؟ کیا وہاں انسان جو قیدی ہے وہ اپنی مرضی کا مالک ہوتا ہے؟ کیا وہ جب چاہے اپنے کمرے سے باہر نکل کر میدان میں گھوم سکتا ہے؟ کیا جب اُسے پیاس لگے تو پانی اپنی مرضی سے پی سکتا ہے؟ جب اسے بھوک لگے تو اپنی مرضی سے وہ کھا سکتا ہے؟ جس سے وہ ملاقات کرنا چاہے کیا وہ اُس سے مل سکتا ہے؟ جو جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے واپس آیا ہے، وہ کہے گا ایسا ہرگز نہیں۔ وہاں ایک قانون ہے جو جیلر قانون بناتا ہے، اسی قانون کے مطابق قیدیوں کو زندگی گزارنا پڑتی ہے۔ وہاں قیدیوں کی اپنی کوئی مرضی نہیں چلتی۔ قیدی آزاد نہیں ہوتا۔ جب وہ چاہے اپنے کمرے سے باہر نہیں نکل سکتا، جب وہ چاہے پانی نہیں پی سکتا، جب وہ چاہے کھانا نہیں کھا سکتا، جب وہ چاہے کسی سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ اگر اس کو کھانا پینا ہے، کمرے سے باہر نکلنا ہے، ملاقات کرنا ہے تو جیلر کی اجازت ضروری ہوتی ہے۔

جب یہ دنیا کی قید کا ایک ماحول ہے، دنیا کے قید خانے کا ایک ماحول ہے، تو جب اس دنیا کو میرے آقا نے مسلمانوں کا قید خانہ قرار دیا ہے تو کیا اب ہم اپنی مرضی کے مالک ہوگئے؟ کیا ہم جو چاہیں وہ پی لیں گے؟ کیا ہم جو چاہیں وہ کھا لیں گے؟ کیا ہم جس سے چاہیں اُس سے ملیں گے؟ نہیں! نہیں! ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا ہے۔ ہم وہی پییں گے جس کے بارے میں اسلام نے اجازت دی ہے، ہم وہی کھائیں گے جس کو کھانے کی اجازت اسلام نے دی ہے، ہم انہی سے ملیں گے جن سے ملاقات کی اجازت اللہ و رسول نے دی ہے۔

اور جیسے دنیا کے قید خانے میں جیلر کے قانون کی خلاف ورزی کرنے پر سزائیں بڑھا دی جاتی ہیں اور اسے اچھا قیدی نہیں مانا جاتا ہے تو ایسے ہی جب ہم اسلام کے قوانین کی خلاف ورزی کریں گے تو پھر ہم اچھے مسلمان نہیں مانے جائیں گے، ہمارے نامۂ اعمال میں نیکیوں کے بجائے برائیاں لکھی جائیں گی، پھر اس کی ایک سزا متعین ہوگی اور وہ سزا دنیا میں اگر نہ ملی تو آخرت میں اس کو بھُگتنا پڑے گا۔

اس لیے یہاں سے اگر کامیاب زندگی لے کر جانا ہے، اپنے مقصدِ تخلیق کو پانا ہے اور اپنے اوپر جو ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں، اُن کو نبھانا ہے تو اللہ و رسول کے حکم کی فرمانبرداری کرنی پڑے گی اور جو اللہ و رسول کے حکم کی فرمانبرداری کرے گا حقیقت میں وہی دنیا میں بھی کامیاب ہے، وہی آخرت میں بھی کامیاب ہے۔

جو قیدی جیلر کے حکم اور اُس کے قوانین کے  مطابق اپنی زندگی جیل کی پابندیوں میں گزارتا ہے، حکومتیں اور جیلر خود حکومتوں سے درخواست کرکے اس کی سزائیں کم کرا دیتے ہیں۔ تو اگر ہم اللہ و رسول کے حکم کے مطابق دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں، اگر ہم سے کچھ کوتاہیاں ہوئی ہیں تو کوتاہیوں کو آخرت میں درگزر کر دیا جائے گا اور ہمیں اُس نعمتِ ابدی سے سرفراز کیا جائے گا جس کے لیے ہماری تخلیق کی گئی ہے، جو ہماری منزلِ مقصود ہے، ہماری منزل مقصود یہ دنیا نہیں ہے، ہماری منزل مقصود وہ آخرت ہے۔

اِسی لیے تو میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث کے ذریعے سے یہ سمجھایا ہے، ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے اہلِ بیت کی مثال سفینۂ نوح کی طرح ہے، جو اس کشتی پر سوار ہوا وہ نجات پا گیا اور جو کشتی سے اترا وہ ہلاک ہوگیا۔ اور دوسری حدیث میں میرے آقا ارشاد فرماتے ہیں

أصحابي كالنُّجومِ بأيِّهمُ اقتديتُمُ اهتديتُم

یعنی میرے صحابہ نجوم ہدایت ہیں، ان میں سے جس کی پیروی کرو گے، ہدایت پا جاؤ گے۔ یہ دو حدیثیں ہیں، ان دو حدیثوں سے میرے آقا نے زندگی گزارنے کا طریقہ بتا دیا۔ کامیاب زندگی کیسے ہو سکتی ہے؟ وہ ان دو حدیثوں کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے سے ہوگی۔ یہ حقیقت میں دو حدیثیں ہیں لیکن ان دونوں میں بڑا گہرا رشتہ ہے، بڑا گہرا تعلق ہے۔ میرے آقا فرما رہے ہیں، یہ دنیا سمندر کی طرح بالکل تاریک ہے، اس دنیا سے اگر حفظ و امان کے ساتھ گزرنا ہے تو میرے اہل بیت کی کشتی پر سوار ہو جاؤ اور میرے صحابہ کے طریقے کے مطابق اپنی منزل مقصود کی طرف اپنی کشتی کو رواں دواں رکھو، تم اس دنیا سے حفاظت کے ساتھ گزر جاؤ گے اور منزلِ مقصود جنت تک پہنچ جاؤ گے۔ لیکن اگر کوئی بہت چالاک بنتا ہو اور وہ یہ سوچتا ہو کہ صرف اہل بیت کی محبت ہمارے لیے کافی ہے، صحابہ کی رہنمائی کی ضرورت نہیں، اہلِ بیت کی محبت ہی کافی ہے تو سن لو! جو لوگ کشتیوں سے سمندر کا سفر کرتے ہیں، اگر وہ ستاروں کی رہنمائی کو چھوڑ دیں تو اُسی سمندر میں بھٹکتے رہ جائیں گے اور ہلاک ہوجائیں گے اور جو یہ سوچیں کہ اہلِ بیت کی ہمیں کیا ضرورت ہے؟ دین تو صحابہ کرام نے پھیلایا ہے، صحابہ کے دامن سے لپٹے رہو، ہمیں ہدایت مل جائے گی تو یہ یاد رکھو! جو سمندر میں بغیر کشتی کے اُترتا ہے وہ بھی ہلاک ہو جاتا ہے اور اگر آپ کو حفظ و امان کے ساتھ سفر طے کرنا ہے تو اہلِ بیت سے محبت بھی کرو اور صحابہ کے نقش قدم کو بھی اپناؤ۔ یہی ہماری زندگی کا اصول ہے۔ اسی لیے تو سرکار اعلیٰ حضرت اس حدیث کی ترجمانی یوں کرتے ہیں:

اہلِ سنت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی

ذرا سوچیے! آج ماحول بڑا پُرفتن ہے۔ خاص طور سے اس معاملے میں لوگ دھیما زہر دیتے ہیں۔

شہد دکھائے زہر پلائے کے مصداق حُبِ اہل بیت کا جام ہم سنیوں کو پلانے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ہم تو صبح و شام اپنے شجرے میں یہ پڑھتے ہیں:

حُبِ اہلِ بیت دے آلِ محمد کیلئے
کر شہیدِ عشق حمزہ پیشوا کے واسطے

یہ حُبِ اہل بیت کا جام جو دکھاتے ہیں، سمجھ لیجئے کہ شراب کی بوتل پہ روح افزاء کا لیبل لگا دیتے ہیں۔ وہ حقیقت میں آپ کو حُبِ اہل بیت کا جام پلانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ اس کی آڑ میں بُغضِ صحابہ کا جام پلانا چاہتے ہیں۔

وہ لوگ جو اپنے اسلاف کے طریقے سے ہٹ گئے، ایسے لوگوں کی نہ باتیں سنو نہ ایسے لوگوں کے پیچھے چلو۔ انسان کی زندگی کی کامیابی اِسی چیز میں پوشیدہ ہے کہ وہ اپنے گزرے ہوئے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلے۔ عقیدہ پُرانا اچھا ہوتا ہے۔ ہم 1400 سال پُرانا عقیدہ اپنائے ہوئے ہیں، کامیاب زندگی گزر رہی ہے۔ اگر عقیدہ نیا اپناؤ گے تو پھر بھٹکتے رہ جاؤ گے۔

اس لیے اس پُرفتن دور میں ایمان کی حفاظت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ آج اگر کسی سے ایمان کی حفاظت کی بات کرو تو کہتے ہیں کہ ہمارا ایمان اتنا کمزور ہے کہ ہم وہابی کی چائے پیئیں گے تو ہم وہابی ہو جائیں گے؟ رافضی کی دعوت کھائیں گے تو رافضی ہو جائیں گے؟ اُن کا اس طرح کہنا ہی اُن کے ایمان کے کمزور ہونے کی دلیل ہے۔ یہ ایمان کی کمزوری کی علامت ہے جو اپنے ایمان کی طرف سے بے فکر ہوگیا ہے۔ ایمان کی مضبوطی یہ ہے کہ اُس کی حفاظت کیلئے ہمیشہ فکر مند رہے۔ ذرا سوچیے! آج کا یہ ماڈرن زمانہ ہے، آپ ایک آئی فون خریدتے ہیں یا اینڈرائڈ موبائل لیتے ہیں تو اس کی اسکرین کی حفاظت کے لیے اس کے اوپر کتنے اسکرین گارڈ لگاتے ہیں، کیوں؟ اسلیے کہ نیا نیا موبائل ہے، کہیں اُس پر خراش نہ پڑ جائے، کوئی عیب نہ آجائے۔ سوچیے کہ اگر ایک لاکھ کا موبائل لیے ہیں تو اُس کی حفاظت کا انتظام اتنا کر رہے ہیں کہ اس کے اوپر اسکریچ نہ پڑے لیکن ایمان کی طرف سے اتنے غافل؟ کہ ہر ایسے شخص سے مل لو کہ جس سے ایمان پر خراش نہیں بلکہ ایمان ضائع ہونے کا ڈر ہوتا ہے؟ پھر بھی آدمی احتیاط نہیں کرتا ہے۔ کیوں نہیں ایمان کے بارے میں یہ سوچتا ہے کہ میں ایسے شخص سے نہ ملوں جس سے ملنے پر میرے ایمان پر خراش پیدا ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان کی طرف سے بالکل بے فکر ہوگیا۔ بخاری شریف کی ایک حدیث ہے حضرت ابن ابی مُلیکہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں میں نے 30 صحابہ سے ملاقات کی۔ سب کے سب یہ کہتے تھے کہ ہمارا ایمان جبرائیل اور میکائیل کی طرح نہیں ہے۔ کیا مطلب ہے؟ مطلب یہ ہے کہ جبرائیل اور میکائیل علیہم السلام فرشتے ہیں اور فرشتے معصوم ہوتے ہیں، ان سے گناہ ہو ہی نہیں سکتا اور ان کا ایمان برباد ہو ہی نہیں سکتا تو اُنہیں کسی چیز کا ڈر نہیں۔ ہمارا ایمان جبرائیل اور میکائیل کی طرح نہیں ہے، سب کے سب (صحابہ) اپنے ایمان کی طرف سے فکر مند رہتے تھے۔ سوچیے! صحابہ کرام تو اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے اتنے فکرمند! اور آج ہم اتنے بے فکر! یہ صحابہ کے نقش قدم پر چلنا نہیں ہوا۔

اس لیے کامیاب زندگی اُسی کی ہے جو اپنے ایمان کی حفاظت کے ساتھ اس دنیا سے چلا گیا اور اس زمانے میں ایمان کا جو سب سے بڑا محافظ ہے، وہ سرکار اعلیٰ حضرت، مجددِ دین و ملت، امامِ عشق و محبت، سیدنا امام احمد رضا فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ آپ نے زندگی بھر لوگوں کے ایمان کی حفاظت کی ہے، ناموسِ رسالت کی حفاظت کی ہے، لہٰذا اللہ و رسول کی بارگاہ سے اُنہیں یہ انعام ملا کہ 100 سال سے زائد ہوگئے اُنھیں وفات پائے ہوئے لیکن آج بھی ان کے نام کے اندر یہ تاثیر ہے کہ صرف اُن کا نام لے لو، آپ کے ایمان کی حفاظت ہوتی رہے گی۔

جو اپنے گھر کے دروازے پر صرف مسلکِ اعلیٰ حضرت لکھ دے یا بیتِ اعلیٰ حضرت لکھ دے، کاشانۂ اعلیٰ حضرت لکھ دے، میرا دعویٰ ہے کوئی بدمذہب اُس دروازے پہ دستک نہیں دے سکتا۔

معلوم کیا ہوا؟ اعلیٰ حضرت کا نام ہمارے ایمان کی حفاظت کر رہا ہے۔ جب ان کا نام ہمارے ایمان کی حفاظت کر رہا ہے تو ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم اُن سے محبت کریں، اُن کے نقشِ قدم پر چلیں، اُن کے طریقے کو اپنائیں، اُن کی تعلیمات کو اپنائیں اور اُن کے مشن کو آگے بڑھائیں۔

یہی ہماری کامیاب زندگی کے اُصول ہیں اور اِسی طریقے پر چل کر ہم کامیاب ہوں گے اور جو مسلکِ اعلیٰ حضرت سے ہٹے گا، اُس کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ اس زمانے میں اگر ایمان کی حفاظت اور کامیاب زندگی چاہیے تو اعلیٰ حضرت کے دامن سے وابستہ ہونا پڑے گا۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو مسلکِ اعلیٰ حضرت پر گامزن رکھے اور اِسی طریقے پہ ہم سب کو چلائے اور ہماری دعوت و تبلیغ کا جو طریقہ ہو، وہ بھی مسلکِ اعلیٰ حضرت کے مطابق ہو۔ اللہ رب العزت تمام فارغ ہونے والے طلبہ اور زیرِ تعلیم طلبہ کو علمِ نافع کی دولت سے نوازے۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين


آل مالیگاؤں سنی گروپ میں شامل ہونے کیلئے نیچے کِلک کریں۔
Join
حُسام الحرمین کی ضرورت و اہمیت اور اس کی صداقت کے موضوع پر بہترین تقاریر سُننے کیلئے بٹن پر کِلک کریں:
حُسام الحرمین کیا ہے؟

فتاویٰ تاج الشریعہ، فتاویٰ رضویہ مترجم اور دیگر اہم کتابیں رعایتی ہدیے میں گھر بیٹھے حاصل کرنے کیلئے نیچے کِلک کیجیے:

Discount Books

Fatawa e Tajushshariya, Fatawa e Razawiya Mutarjam Aur Deegar Ahem Kitaben Discount Hadiye Me Ghar Baithe Hasil Karne ke Liye Niche Click Karen:
 

صحابی رسول، کاتب وحی، امیرالمؤمنین و خلیفۃ المسلمین حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل پر مبنی مضامین اور منقبت پڑھنے کیلئے نیچے کِلک کریں:

Click Here

Hazrat e Ameer e Muawiya Ki Shaan Me Poori Duniya Ke Bade Bade Ulma Ke Bayanat Aur Shandaar Manqabat Sun’ne Ke Liye Niche Click Karen:

Shane Ameere Muawiya

 

Ye Number Har WhatsApp Group Me Add Kijiye:
(+91) 7391-848541
705-87-786-87

 

Don`t copy text!